بادشاہ کی خدمت میں محلی کے ہاتھ کہلا بھیجا
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۱)
اس نے بھی جھروکوں سے امیرزادے کو دیکھا ، دیکھتے ہی خود رفتہ ہو گئی ، عاشق و آشفتہ ہوگئی ، محلی کو بھیجا کہ اس جوان کو بلا لاؤ
(۱۸۸۷ ، داستانِ امیرحمزہ ، بلگرامی ، ۴۴۵)
۔ حوض کے غربی کنارے ۔۔۔۔۔ جس کو محمد بخش بادشاہی محلی نے بنوایا ہے
(۱۹۰۳ ، چراغِ دہلی ، ۳۳۷)
۔ محلی اُردو میں خواجہ سرا کو کہتے ہیں جو محل سرا میں بھی آتا جاتا ہے
(۱۹۸۸ ، اردو ، کراچی ، جولائی تا ستمبر ، ۴۰)