سنیا میں زپیرانِ دیرینہ سال
کہے یونچ گردان روز جدال
دل نہ میری سنے نہ میں دل کی
روز باہم جدال رہتی ہے
چیز کی بابت تکرار ہوئی بھائی بھائی میں جدال و پیکار ہوئی
(۱۹۰۱، الف لیلہ، سر شار، ۱۸۷)
قر آن پاک نے پہلے طریقہ کو حکمت دوسرے کو مو عظتِ حسنہ اور تیسرے کو جدال سے تعبیر کیا ہے اور استدلال کے یہی وہ طریقے ہیں جن سے ایک شخض دوسرے کے سامنے اپنے مدعا کو ثابت کرتا ہے
(۱۹۳۲، سیرۃالنبی، ۴ : ۳۵۲)
جدال دیر کے رہبان سنے کہاں تک میر
اٹھو حرم کو چلو اب تمہیں خدا کی قسم