جگہ پکڑی ہے کیوں سینے میں دل نے اس سے کیا حاصل
کسی انگشتری میں اس کو رہنا تھا نگیں ہو کر
جدید العہد ہو نے کی وجہ سے اعراب کے دلوں میں رسوخ کے ساتھ اس نے جگہ نہیں پکڑی تھی۔
(۱۹۰۷، امہات الامہ ،۹۴)
ہماری وقعت نے ان کے دلوں میں جگہ پکڑی۔
(۱۸۸۷، نہر المصائب،۲۲)
شاعری نے لکھنؤ میں مضبوط جگہ پکڑ لی تھی
(۱۹۳۶، قدیم ہنر مند ان اودھ،۳۸)
یہ وہ لو گ ہیں کہ اس جگہ میں اور ایمان میں سب سے پہلے انہوں نے جگہ پکڑی ہے۔
(۱۸۶۵، مذاق العارفین ،۶۱۶:۴)
ان کی ہوا بگڑ گئی ،اغیار ن کے ملک میں جگہ پکڑ گئے۔
(۱۹۱۸، مسئلہٗ شرقیہ ،۱۲۰)