وہ اس کی آواز سن کر پہچان گئے کہ یہ تو گیدڑ ہے اور . . . اسی گھڑی اسے تکا ہوٹی کیا .
(۱۸۰۱، طوطا کہانی ، ۴۰ )
سردار کو ہلاک کرتے ہی تم کو تکا بوٹی کردیا جائے گا .
(۱۹۰۱، زلفی ، عنایت اللہ ، ۴۰)
اس غریب (افریقہ) کا تکا بوٹی کر ڈالا اور اب تک نوچا نوچی اور لوٹ کھسوٹ مچ رہی ہے .
(۱۹۰۵، مقدمات عبدالحق ، ۱ : ۱۷۷)