ہیں احادیث ایسی بے حد و شمار
میں کیا اتنوں کے اوپر اختصار
وعدہ ہے وصل یار کا واہ رے بخت نارسا
اول شام سے ہوا پہلے ہی اختصار شب
دماغ کے اختصار اور بھیجے کی کمی ان کی گفتگو کو بے معنی سا کردیتی تھی.
(۱۹۴۷، فرحت، مضامین، ۳ : ۱۳۱)
تیری دعا سوں بول قصیدا یو بات کوں
نا کر دراز ختم کیا اختصار پر
چند کلمے بطریق اختصار کہ عجیب و غریب اشعار ہیں اور تحفہ تحفہ حکایتیں.
(۱۸۰۱ ، گلستان ہندی ، ۱۷).
جو اختصار اور صفائی اسے موازنے میں پائی جاتی ہے وہ موجودہ موازنے میں نہیں.
(۱۹۳۵ ، چند ہمعصر ، ۴۲ ).
ہے مری طول شب فرقت کا اتنا اختصار
ایک دل تھا وہ بھی صرف آہ سوزاں ہوگیا
اختصار کرو ان کروں کا.
(۱۸۵۴ ، تحفۃ الحساب ، ۱۹).
تحویل و اختصار کے بعد . . . صورت عامہ یہ ہے.
(۱۹۱۹ ، جبر و مقابلہ ، ۱ : ۱۳۱ ).