شام فراق ہے وہ اندھیری کہ خوف ہے
پیغام پر جناب قضا کا دہل نہ جائے
پیغامبر سے کہتے ہیں بنوائیں اپنا منہ
وہ اک انوکھے چاہنے والے کہاں کے ہیں
کتاب مبیں اوس کا مکتوب ہے
بیاں اوس کے پیغام بر کا حدیث
پیغام بری : اسم کیفیت ( = پیغام لے جانا یا لانا)
کلام کی غرض و غایت صرف سامعین کو محظوظ کرنا نہیں ہے ، بلکہ عقل کی سفارت و پیغام بری ہے
(۱۹۱۴ ، شبلی مقالات ، ۲ : ۲۴ )