انجھو مج نیں تھے ٹپکن لگے تج برہ کی ماری
مقابل درک درین دھر بجز جل تھل نہیں دیکھیا
گرد مجھ سے لڑی ہے جنگل میں
ہے مرا آب اشک جل تھل میں
نتیجہ یہ ہوا کہ تخلیق کی پیاسی سر زمین پر سارے بر عظیم میں وہ موسلا دھار بارش ہوئی کہ جل تھل ہو گیا۔
(۱۹۷۵، تاریخ ادب اردو،۵۲۵:۱)
رک جانے پہ گُھٹس ہے ،رو دینے پہ جل تھل ہے
امڈا ہوا جی اپنا ،برسات کا بادل ہے