جانے کا کسی طرح نہیں دل پے یقین ہے
جوں جرم عقیق آہ ہمارا جگری داغ
ماہ نو کے وقت جرم چاند درمیان زمین اور آفتاب کے ہوتا ہے۔
(۱۸۳۷، ستہ شمسیہ، ۲ : ۸).
فطرتاً خشک ہو جو شے اسے نمناک کریں
جر شمسی کو جلا کر کرہ خاک کریں
فقرات الصلب میں سے دسویں فقرہ کا جرم اور بازو دونوں ٹوٹ گئے۔
(۱۸۹۲، میڈیکل جیورس پروڈنس، ۱۱۲).