خدا کہیا کہ نہیں سیر کر دیکھتے بہوت اس زمین میں بہوت چوڑی ہے ای زمین.
( ۱۶۰۳ ، شرح تمہیدات ہمدانی ، ۱۹ )
سامنے ایک دیوارچوڑی استوار بنی ، آزمائش توڑ گولی کے لئے تھی.
( ۱۸۴۷ ، تاریخ یوسفی ، ۳۴ )
پٹی : کاغذ یا کپڑے کی چوڑی لانبی دھجّی.
( ۱۹۲۶ ، نوراللغات ، ۲ : ۴۹ )
اُس وقت ہمارا کام کر دیجئے . . . کوئی لمبی چوڑی بات بھی نہیں کل پانچ روپیہ کا معاملہ ہے.
( ۱۹۵۴ ، پیر نابالغ ، ۱۰۶ )
دروازے تو قد آدم سے زیادہ نہیں لیکن ان کے ارد گرد چوڑی چوڑی پٹیاں کوئی چالیس پچاس فٹ اونچی چلی جاتی ہیں ، محرابیں بھی خوب چوڑی اور سپاٹ ہیں.
( ۱۹۸۶ ، جنگ ، کراچی ، ۷ مارچ ، ۳ )