وہانسے سریر آرائے اریکہ معدلت رونق بخش معرکۂ انصاف ہوا ۔
(۱۸۶۲ ، شبستانِ سرور ، ۸۰)
یہاں کا سریر آرا اس بلا کا جانچنے والا ، ۔۔۔ کہ ایک ہی توجہ میں بتا دیتا ہے کہ کہاں حُسن کی چادر کے نیچے عیب ہے ۔
(۱۹۲۳ ، مضامین شرر ، ۲/۱ : ۴۹۰)
شاہ عالم سریر آرائے سلطنت ہوئے ، لیکن انتشارِ سلطنت ، بدنظمی اور بغاوتوں کے فتنوں نے سر اُٹھانا شروع کردیا ۔
(۱۹۸۴ ، سراج اورنگ آبادی ، ۷)