کمر ٹوٹ گئی خوار مردار کی
دیا چھوڑ چنتا سو گھر دار کی
چتر کو چنتا مورکھ کو ہے راج
مورکھ کو اپس پیٹ بھرنے سے کاج
انہوں نے کہا تم ہر گز اپنے دل میں چنتا نہ کرو .
(۱۸۰۳ ، اخلاق ہندی ، ۶۶)
چلو جو کچھ ہوا اچھا ہی ہوا ، اب کچھ چنتا نہیں ہے .
(۱۹۲۲ ، گوشۂ عافیت ، ا : ۱۶۷)
کیا بات ہے بابا ؟ کیا چنتا ہے تیرے من کو ؟
(۱۹۸۴ ، سفر مینا ، ۲۰۲)
بعد از ذکر قلبی لیوے دل میں مخفی بوج
چنتا کوں نا ، دار چھنکائیں تو منزل ملکوت توج
پنڈتوں نے پوتھی کھولی . . . شمار کیا کہا . . . کچھ چنتا نہیں .
(۱۸۹۱ ، بوستان خیال ، ۸ : ۲۲۷)
بعد مغرب رائے سینا کے اسلامی جلسہ میں تقریر کی مضمون کا عنوان ’ہرکی چنتا‘ تھا .
(۱۹۲۴ ، روزنامچہ حسن نظامی ، ۳۵)
سکو پیو چنتا لگایا لگیا ہے بمن کوں
سجن بن نہ کر سے لے ہور کوئی نوارا
رکھے دل میں کسی کو چنتا گلے میں ڈالی برہ کے کنٹھا
درس کی خاطر تمھاری منتا بھکھارن اپن ابرن بنایا