تمام اپنی خلقت میں پروردگار
کیا خُفت پیدا اَدِک زبیدار
شہر کے کوٹھوں پر جو خلقت تماشا سواری کا دیکھنے کے لیے جمع ہوئی
( ۱۸۰۲ ، نثرب نظیر ، ۳۳ )
بد نصیب خلقت کو رات کو روٹی مبسر نہیں ہوتی .
( ۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۹ : ۵ )
دلَی کی خلقت سے . . . کئی کاٹ رہا ہوں .
( ۱۹۸۴ ، زمین اور فلک اور ، ۳۲ )
ایک خلقت اس کو سُننے اکٹھی ہوئی تھی .
( ۱۹۷۸، بے سمت مسافر ، ۵۳ )