سارے معالجوں میں جلاب خوب تر ہے
ہمشیر ان سبھوں کا پہچانتے ہو ہڑ ہے
نصوح نے ایسا جلاب نہیں لیا تھا کہ اس نے خون میں ذراسی گرمی بھی لگی رہنے دی ہو۔
(۱۸۷۷ ، توبۂ النصوح ، ۵۲)
آج جلاب لیا جس سے آرام ہوا۔
(۱۹۱۷، خطوط خواجہ حسن نطامی ، ۱ : ۳۴)
پانچ گن پانی کے سن عین مغز جلاب خوے استنجا آب منی۔
(۱۵۹۱ ، جانم ، رسالہ وجودیہ ، ۳)
پانی کے گن پانچہ ، مغز ، جلاب ، خوے ، آب منی ، استنجا۔
(۱۷۴۰، ارشاد السالکین ، ۲۰)
دست آتے ہیں اگر مج کو تو اس کاغم نہیں
یعنی بد ہضمی مری جلاب سے کچھ کم نہیں
مگر شبنم کا مے ہے یا ادھر جلاب کا پیالا
یو بی خوب ہور اوبی خوب تج سوں مل پون سارا
عرف اطبا میں جلاب سے شربت گلاب ہی مقصود ہوتا ہے۔
(۱۹۲۶ ، خزائن الادویہ ، ۳ : ۲۶۸)