سر کشی اور بدی کرنے والے حرام زدگی اور بدزاتی نہ چھوڑیں گے .
( ۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۴۰ )
وہ اگر حرام زادہ تھا تو تم نے اس کی حرام زدگی کو نہیں بلکہ خؤد اس کو مار ڈالا ہے
( ۱۹۵۵ ، منٹو ، خالی بوتلین ، خالی ڈبے ، ۲۸ )
آپ نئ خرامزدگی لکھا ہے حرمزدگی ہونا چاہیے
( ۱۹۷۶ ، زرگزشت ، ۱۶ )