عبداللہ کوں پاس بلاؤ
دیتے عزت حرمت چاؤ
( ۱۵۰۳، نوسرہار ( اردو ادب ، ۲۰۶ ، ۲ : ۷۰ )).
رکھیا کچھ نہ حرمت حرم کا تیری
نہ کچھ یاد دلایا کرم کا تیری
بتاں کے ربط سے قائم خلل ہے حرمت میں
خدا کے واسطے اس قوم کو نہ کر گستاخ
حرمت سے شریک شہدا کیجیو یارب
تو حوصلۂ صبر وطا کیجیو یارب
اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم
ہے خوں تری رگوں اب تک رواں ہمارا
واحد صاحب کے نزدیک تحریر کی بڑی حرمت تھی.
( ۱۹۸۳، نایاب ہیں ہم ، ۳۹ ).
حرمت میں مے کی کہنے سے واعظ کے ہے فتور
کیا اعتبار دکھتی ہے اس پوچ گو کی بات
یہ وہ عالمانِ دیں ہیں جو ہمیں بتا رہے ہیں
کہ سماجیوں کی حرمت ہے حجازیوں کی حلّت