گرفتار ہوے پھول دھن قہر میں
تو یوں ٹان٘گتے سیاست کر شہر میں
مبادا سُن کے یہ میری خیانت
کرے میرے اوپر وہ کُچھ سِیاست
یہ کیا انصاف ہے کہ میں اس کا ملک بھی لوں اور اس کے اعوان و انصار و امراء اور عزیز اقربا کو بھی سیاست کروں .
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۲ : ۸) .