بہر صبح كوں پڑھ توں پانچوں پُران
بہر شام كو پانچ پانچوں بكھان
دھڑک دھک ادک آگ كی ہر صبح وشام
لگے سوخ تان٘بے نمن بھوئیں تمام
شام سے كچھ بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس كا
اس كو بھولا نہ چاہیے كہنا
صبح جو جاوے اور آوے شام
گذاریں خرابات میں آؤ چل كر
یہ گل بار صبحیں یہ رنگیں شامیں
شام كے آنكھ چراتے ہوئے منظر كے قریب
ایک خورشید نكلتا ہے مرے گھر كے قریب