رہے گھر میں چُھپ رُستمان سی سوار
نِکلتے نہیں کوئی در تھے بہار
چوگاں میں ہیں جس کے گو سروں کے
شاید کہ وہی سوار ہو گا
عدم کو رُوح گئی رہ گیا تنِ خاکی
پہنچ سکے نہ پیادہ کبھی سوار کے ساتھ
ہے اگر فائق پیادے سے سوار
سُست پر غالب اگر ہشیار ہے
سواری میں خاوند کے اگر سوار چلتے ہوں یا پیدل تو آپس میں باقاعدہ آواز سے یا کھس کھس کرتے نہ چلے .
(۱۸۵۶، فوائد الصبیان ، ۵).
سواروں کے آگے پیادے جنگ کے آمادے ، دیوار فوج تھے .
(۱۸۸۲، طلسمِ ہوشربا ، ۱ : ۴۶).
جوہر کی رسمِ خاص ہو رنواس میں ادا
سا کھا صفِ عدو میں کریں سُورما سوار