بھی پوچھیا کہ جُھوٹے گواہ ہور قمار
زِنا ہور گھوڑے پو عورت سوار
بادشاہ زادہ ایک گھوڑے کے اُوپر سوار ہو کے خطا کی طرف کوں چلتا ہے .
(۱۷۴۶ ؟ ، قِصّۂ مہر افروز و دلبر ، ۶۴).
اِدھر اُدھر جتنے فوج کے افسر ہیں صاحبِ کرّوفر ہیں گھوڑوں پر سوار برچھے طلائی لِیے .
( ۱۸۶۲، شبستانِ سرور ، ۹۸ ).
کل تُم بھی سوار ہو کے دیکھ آنا مجھ کو چھ دن باقی ہیں ، اگر تم کوئی معمولی ردّ و بدل چاہو گی تو بھی ہو سکتا ہے .
(۱۹۲۵، مِینا بازار ، ۴۴).
پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلّم اس عالم تے سوار ہوتے وقت عبداللہ زید یک مرید تھے ، پیغمبر کوں آکر دیکھے .
(۱۶۰۳، شرحِ تمہیداتِ ہمدانی (ترجمہ) ، ۶۶).
بعض مہمان تو اس قدر ناراض ہو گئے کہ اگر زبیدہ انہیں مِنّت سماجت سے نہ روکتی تو وہ اسی وقت سوار ہو جاتے .
(۱۹۰۰ ، خورشید بہو ، ۴۹).
ہمیشہ سرنِگوں دیکھا ندامت سے زمانے میں
سوار اب تک ہے خونِ کوہکن شیشے کی گردن پر
جہالت اور تقلید سب کے اُوپر سوار ہے .
(۱۹۴۶، شیرانی ، مقالات ، ۲۰۰).
ہتنی پہ سوار یوں ہوا فِیل
جس طرح کسی کو کوئی دے کِیل