سہیلیاں کے منانے میں نہووے دھیر چت میرا
نصیحت ان نہ بھاوے مج نہووے چین کچ اس سوں
نہیں ہے چین اوسے تیرے بن اے قاسم
جمال اپنا دیکھا اوس کوں صبر دے قاسم
جنھوں نے توڑ دیے اپنے پائے حرص و ہوا
پڑے ہیں چین سے وہ گوشہ فراغ کے بیچ
کسے ہے چین اے سفاک تیری حکم رانی میں
ستم وہ آنکھ سے دیکھے جو سنتے تھے کہانی میں