ہوا دل سے زیادہ تُند و سرکش
خوشی میں آلگے کرنے کوں عش عش
عمدہ سے عمدہ نکھار ہو ، جو دیکھے عش عش کرے.
(۱۸۸۷ ، جام سرشار ، ۱۴)
خواجہ صاحب اپنے مضمون میں ایک ایک جز کو الگ الگ کر دکھاتے ہیں اور وہ گلکاری کرتے ہیں کہ آدمی عش عش کرے.
(۱۹۱۲ ، مقدماتِ عبدالحق ، ۲: ۹۲)
جہازِ باد کلاں یہ تقریر سُن کر دم بخود رہ گیا ، عش عش کرنا چاہتا تھا لیکن شہزادیوں کی طرف دیکھ کر ارادہ ملتوی کردیا.
(۱۹۳۵ ، مزید حماقتیں ، ۱۷۴)