ہزاروں چُھٹ گئے صدقے میں تیرے تازہ اسیر
ہمیں قفس میں تو صیّاد اک زمانہ ہوا
کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے
دل کو سمجھاتے تھے حضرت یاد کر عہدِ رسول
یہ بھی رہنے کا نہیں جب وہ زمانہ ہو گیا
چل پھر رہا ہوں جیسے زمانہ ہو گیا یہاں آئے ہوئے
( ۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۷۲ )