دانۂ اشک سوا کچھ نہیں اس سے حاصل
عشق کا کھیت بہت ہم نے بوا جوتا ہے
عمل ثانی مشتری میں سفر کو جانا ، نکاح بیاہ کرنا ، کھیت بونا ، مال تجارت خریدنا .
(۱۸۸۰ ، کشاف النجوم ، ۹۱).
میں نہ ڈاکٹر نہ شاعر ایک معمولی دہقان ہوں کھیت بوتا ہوں اور اس کے آس پاس کیکر اور بیری کے کانٹوں کی باڑ لگاتا .
(۱۹۱۸ ، چٹکیاں اور گدگدیاں ، ۹۷).