خیر اب بھی سوچو تو سویرا ہے.
(۱۸۸۹ ، سیرِ کہسار ، ۱ : ۷۱) .
آخر آپ کے مِزاج سے بچپن ابھی تک نہیں گیا ، یہ معاملات تسخیر ہیں اس کو مذاق نہ سمجھیے گا ابھی سویرا ہے.
(۱۹۰۰، ذاتِ شریف ، ۶۳).
کہاں تک کروٹیں بدلا کرے گا خوابِ ہستی میں
ذرا کھول آن٘کھ او غافل کہ دم بھر میں سویرا ہے