بیپاری بھی داد رستد کے نفع و ضرر میں کوفتہ خاطر رہتے ہیں.
(۱۸۲۴، سیرِ عشرت، ۱۴۰).
حاجی خاں اس خیمے میں اترا اس سے شریف امراء افغان کو شک و حسد ہوا اور اس سےوہ کوفتہ خاطر ہوئے اور آپس میں دل ماندگی کی باتیں کرنے لگے.
(۱۸۹۷، تاریخِ ہندوستان ، ۳ : ۳۷۳).