تجھے تو وعدہ ء دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا
تمن سوں اب اسے امیدواری
محباں پر توجہ دھر کو بھاری
ہجر میں چر خ و اجل نے گر نہ کی یاری تو کیا
دشمنوں سے شیفتہ امیدواری ہے عبث
لڑ کی بھی میرے ہاں سو لڑکوں سے بڑھ کر ہے مگر اتنی امیدواری اور جانکاہی کے بعد پوری خوشی لڑ کے ہی کی ہوگی .
(۱۹۲۰ لختِ گکر ، ۱: ۱۲۶ )