پلا مجھ کو ساقی شراب سخن
کہ مفتوح ہو جس سے باب سخن
ہدایت کے ہوئے ہیں باب مفتوح
عنایت کے ہوئے اسباب مشروح
’’گل شبنم ‘‘ اُس نے سرگوشی کے اس لہجے میں کہا جو مرد عمر میں ایک ہی بار کسی دوشیزہ کے حسن شرر بار سے مفتوح ہو کر اختیار کرتا ہے ۔
(۱۹۴۳ ، بنت قمر ، ۲۰۸) ۔
وہ تو ان کو اپنی شکست اور مفتوح ہونے کی نشانیاں تصور کرتے رہے ۔
(۱۹۷۸ ، پاکستان کے تہذیبی مسائل ، ۵) ۔
اردو اور کھڑی بولی میں نون بطور سابقہ آتا ہے تو وہ مفتوح ہوتا ہے یا مکسور ۔
(۱۹۹۲ ، قومی زبان ، کراچی ، نومبر ، ۳۷) ۔