نصیبوں نے کی آپ کی یاوری
کہ آئی ہے اب ساتویں مشتری
فرخ کی ہمت نے یاوری نہ کی وہ پٹنہ میں آیا جگت سنگھ جو قصبہ بہار کا پاسبان تھا پیکار کے لیے آمادہ ہوا ۔
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۵ : ۳۰۵)
یہ لوگ تعداد میں اس قدر ہیں تمہارا عصا کس کس کی یاوری کرسکتا ہے ۔
(۱۹۲۵ ، مقالات محمود شیرانی ، ۵ : ۸۱۵)
۱۶۹۰ء میں مغول فوج کی امداد کی بدولت قسمت نے ترکوں کی پھر یاوری کی .
(۱۹۷۴ ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۱۱ : ۲۳۲)
بڑا اچھا کنبہ ہے ۔۔۔۔۔ قسمت نے یاوری کی ہے ۔
(۱۹۵۱ ، پہلی کہانیاں ، ۹) ۔
کچھ کھڑبڑاہٹ سی ہوئی تو سمجھا کہ کوئی بھاری مچھلی جال میں پھنسی ہے ، قسمت نے آج یاری و یاوری کی ہے ۔
(۱۹۰۱ ، الف لیلہ ، سرشار ، ۴۴)
وہ باتیں جو غلط ثابت ہوئیں وہ اس فن میں مہارت کے فقدان کے سبب نہ تھیں بلکہ ایسا صرف اس لیے ہوا کہ قسمت نے یاوری نہ کی ۔
(۱۹۷۷ ، افکارِ عالیہ ، ۴۵)
قسمت نے جلد ہی یاوری کی جس کی اتنی جلدی خود انھیں بھی اُمید نہ تھی ۔
(۱۹۹۲ ، نئی سمت ، ۱۰۶)
پرویز کی قسمت نے یاوری کی اور وہی تندور والا کام آیا ۔
(۲۰۰۶ ، چار جدید مصور ، ۳۸) ۔