جس بستر پر سوئے گا وہ بستر ناپاک ہوگا اور جو برتن پر وہ بیٹھ گیا ناپاک ہوگا .
( ۱۸۲۲ ، موسیٰ کی توریت ، ۴۴۳ ).
آج کل مے معرفت پینے کوں اے بحری تجے
یوچ من ساقی بھیا اور یوچ تن برتن ہوا
کیا ان کو باولے کتے نے کاٹا ہے کہ چولھا جھونکیں برتن مانجیں .
( ۱۹۲۴ ، انشائے بشیر ، ۲۸۶ ).