ہرے سے نہ ترنگ سے بادل اساڑھ کے
قربان ذوالفقار تیر گھاٹ باڑھ کے
ترے ہت میں دریا کا نس دل ترنگ
تجھ انگلیاں تے نکلی پنج امرت کی گنگ
بولیا کہ بڈھا ہوا ہوں بیہوش
ناتن میں ترنگ جیۂ میں جوش
نہ بدلی ہے نہ بدلے گی ترنگ اپنی طبیعت کی
دکھے گا کہاں تک آسماں نیر نگیاں اپنی
اس عجیب اور خلاف معمول مقبرے کا نقشہ یا تو بنانے والے بادشاہ کی محض ترنگ تھا یا کسی بیرونی ملک سے لایا گیا ہو گا.
(۱۹۳۲ ، اسلامی فن تعمیر ، ۱۴۸)
ایک روز بادشاہ نے ترنگ میں آکر فرمایا کہ میں نے جوتیر مارا تہ وہ تیر ہرن کے کھر کو توڑ کر سر کو پھوڑ دم گزے سے نکل گیا.
(۱۹۲۸ ، باقر علی ، کانا باقی ، ۲۱ )
اسی ترنگ میں آؤ دیکھا نہ تاؤ کرایہ کی پالکی گڑی منگوا کر سیدھے وحدین کے بہاں پہنچے.
(۱۹۳۴ ، انجام عیش ، ۳۸ )