وہ شجر یوں ہی رہے سر سبز جس کی ہے یہ جڑ
حسن بر روئیدگی اکرام ہے گا تخم کا
رہے عوام تو ان کا یہ حال ہے جیسے دریا کی سطح پر نیلوفر کی شاخ ہوتی ہے . . . بار بار کی ان جنبشوں سے اس کی جڑیں گل جاتی ہیں.
(۱۹۴۳، انطونی کلوپیٹرا، ۳۰).
اس بات کا یو ہے جڑ اس کا اسے نیں خبر.
(۱۶۳۵، سب رس، ۶۱).
پانچ باتیں ہمارے دین اسلام کی جڑ اور بنیاد ہیں.
(۱۹۱۷، بیوی کی تعلیم ، حسن نظامی، ۲۲).
عمل کرنے میں کامل ہو اور دوسرے کو اس کی تقید کرنے ان سب کی جڑ صبر ہے.
(۱۸۶۶، تہذیب الایمان، ۲۹).
دنیاوی عزت کی ہوس ہی تو ان تمام فسادوں کی جڑ ہے.
(۱۹۲۲، گوشۂ عافیت، ۱ : ۳۶۴).