آسامیوں کا یہ عالم تھا کہ ایک جوتا پڑا اور سیدھے ہو گئے آج یہی لوگ منہ کو آتے ہیں.
( ۱۹۷۲ ، ہندوستان کا نظام معیشت ، ۶۷ )
۲. رسوائی ہونا ، طنز و تشنیع کا نشانہ بننا.
خاندان میں جو ایک دوسرے پر جوتا پڑتا اس سے جی خوش ہونے کے بجائے . . . . پھیلتا.
( ۱۹۶۱ ، ’ساقی‘ کراچی ، جون ، ۳۱ )
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .