(iii) (کنایۃََ) وہ عورت جو دوسرے کے استعمال میں آچکی ہو ، داشتہ ، رکھیل .
کنیز کو کیا کروں وزیر نے پھر عرض کیا کہ اس کو اس زندگی کے تئیں بخشئے اس واسطے کہ جھوٹا جس کا اسی لائق ہے .
( ۱۸۰۱ ، باغ اردو افسوس ، ۷۳ )
مشک افشاں کہاں گئی . . . مل جائے تو گرفتار کروں مطلب حاصل کر کے یہاں لے آؤں گا ، میرا جھوٹا قدرت پاویں شوق سے کھاویں .
( ۱۹۰۲ ، طلسم نو خیز جمشیدی ، ۳ : ۸۵ )
۸. ایسا وار جو خالی جائے یا کارگر نہ ہو .
ہے ہاتھ کا اس قدر وہ سچا
جھوٹوں کو بھی ہو نہ وار جھوٹا
( ۱۹۲۹ ، مطلع انوار ، ۱۶۶ )
۹. ناکارہ ، بیکار ، از کار رفتہ ( عضو یا اوزار وغیرہ ).
ہوا بخت دامن سے جب ان کے سچا
ہوا ہاتھ اپنی رسائی کا جھوٹا
( ۱۸۵۴ ، ذوق ، د ، ۶۰ )
[ ا : جھوٹ ( رک) + ۱ : ۱ : لاحقۂ صفت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .