رعایا کو بہت پریشانی ہوتی ہے کہ بغیر رشوت دیے کا نہیں نکلتا اور کہنے والا اکثر جھوٹا پڑتا ہے .
( ۱۸۸۰ مرقع تہذیب ، ۱۴ )
میں نظر آتا تھا کب اتنا اداس
آج ان آنکھوں سے میں جھوٹا پڑا
لخت جگر سے میرے قیمت میں بڑھ چلے تھے
جھوٹے پڑے نگینے سب اس کے نورتن میں
ہاتھ بوجھ اٹھانے سے جھوٹا پڑ جاتا ہے .
(۱۹۲۶ ، نوراللغات ، ۲ : ۴۷۲) .
ہاتھ یا کل کا جھوٹا پڑ جانا .
(۱۸۹۵ ، فرہنگ آصفیہ ، ۲ : ۷۶)