( تاریخی ا ُصول پر )

تقرباََ ۱۶ نتائج (۰سیکنڈ )
    ۱   ۲       >
  1. تَوحِید

    ۱. (i) خدا کی وحدانیت کا یقین، خدا کے ایک ہونے کا عقیدہ.
    (ii) خدا کی یکتائی، اللہ تعالیٰ کا ایک ہونا.
    ۲. اتحاد، وحدت، ایک ہونا.
    ۳. (تصوف) ذات بحث کو مع جمع و فرق کے جاننا اور اس میں خود کوکم کرنا.
     

  2. تَوحِید

    ۱. (i) خدا کی وحدانیت کا یقین، خدا کے ایک ہونے کا عقیدہ.
    (ii) خدا کی یکتائی، اللہ تعالیٰ کا ایک ہونا.
    ۲. اتحاد، وحدت، ایک ہونا.
    ۳. (تصوف) ذات بحث کو مع جمع و فرق کے جاننا اور اس میں خود کوکم کرنا.
     

  3. تَوحِید اِعْتِقادی

    رک: توحید شہودی.
     

  4. تَوحِید اَفْعالی/فِعْلی

    (تصوّف) اسے اصطلاح صوفیہ میں ہمہ ازوست بھی کہتے ہیں اور اول سالک کو یہی توحید پیش آتی ہے اور اسی سے تمامی افعال سے یگانگی اور معرفت ذات کی ثات ہوتی ہے اس لیے کہ جو افعال موجودات سے ہیں درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ہیں کیون٘کہ فاعل حقیقی وہی ہے
     

  5. تَوحِید ذات

    رک: توحید ذاتی.
     

  6. تَوحِید ذاتی

    (تصوّف) یہ سالک کو توحید صفاتی محو کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے، اسے ہمہ اوست بھی کہتے ہیں ... یعنی صفات اور افعال اور آثار کر عین ذات اور حقیقت اور ہمہ اوست کہتے ہیں
     

  7. تَوحِید شُہُودی

    (تصوّف) اس کی دو قسمیں ہیں ایک صوری دوسری معنوی توحید شہودی صوری کو توحید قولی اور توحید ایمانی بھی کہتے ہیں اس پر اعتقاد متکلمین علماے ظاہر اور عام مومنین کا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ صانع ایک ہے اور تمام مصنوعات اسی ایک صانع کی ہیں معنوی سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات مظاہر خالق کے ہیں لیکن ذوات مخلوقات ذات حق سے جدا ہیں
     

  8. تَوحِید صِفاتی

    (تصوّف) یہ سالک کو توحید افعالی کے محو کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اسے اصطلاح میں ہمہ با اوست کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جتنے صفات ہیں ان کا وجود بغیر ذات کے محال ہے اور صفات ذات سے اور ذات صفات سے کبھی منفک نہیں ہوتے.
     

  9. تَوحِید عَیانی

    ذات باری تعالیٰ جو واحد و یکتا ہے.
     

  10. تَوحِید فِی الَّتثْلِیث

    عیسائیوں کا عقیدہ، باپ، بیٹا اور روح القدس تین میں ایک اور ایک میں تین.