( تاریخی ا ُصول پر )
واپس پچھلے صفحے پر جائیں
سرورق
تلاش
مفصل تلاش
تعارف
مستقبل کےمنصوبے
کتب خانہ
مطبوعہ جلدیں
رہنمائی
کچھ اس لغت کے بارے
تلخیصات و اشارت
رابطہ
تقرباََ ۵۵ نتائج (۰سیکنڈ )
مِیاں
۱۔ آقا ، مالک ؛ حاکم ، سردار ، بزرگ ، والی وارث ۔
۲۔ شوہر ، خاوند ، خصم ۔
۳۔(i) کلمہء محبت و شفقت برائے اطفال ، صاحبزادے ، ننھے ، منا ، پیارے ، بیٹا ، جانی ؛ جیسے : میاں آوے دوروں سے گھوڑے باندھوں کھجوروں سے.
(ii) بزرگ اپنے سے کم عمر کو اس لفظ سے خطاب کرتے ہیں
۴۔ صاحب ، جناب کی جگہ ، ایک کلمہ ہے جس سے برابر والوں یا اپنے سے کم مرتبہ شخص کو خطاب کرتے ہیں ۔
۵۔ شاعروں کے تخلص پر تعظیم کے لیے بڑھاتے ہیں ؛ جیسے : میاں ناسخ ، میاں مصحفی ، میاں جراء ت ، میاں عشق ۔
۔ ۶۔ پیارے ، محبوب ، دلبر ، دلربا ، جاناں (عموماً قدیم شعرا معشوق کے لیے استعمال کرتے تھے) ۔
۷۔ استاد ، معلّم ، مدرّس ، پڑھانے والا ، ملا
۸۔ آقا زادہ ، مخدوم زادہ ، امیر زادہ ، شہزادہ ، صاحب عالم ، کنور ۔
۹۔ پہاڑی راجپوت ، راجاؤں کے خاندانی لوگ ، ٹھاکر ، شہزادے ، شاہی خاندان کے لوگ
۱۰۔ (i) (ہندو) لااُبالی مزاج والا مسلمان ، بے پروا مزاج ، مولا دولا (طنزاً) جیسے : ان کے خرچ کا کیا ٹھکانا ہے ، میاں لوگ ہیں
(ii) (ہندو) بیوقوف مسلمان ، مورکھ ، دیوانہ ، باؤلا (طنزاً) جیسے : ایک تو میاں ہی تھے دوجے کھائی بھنگ
۱۱۔ (بقال) عام مسلمان ، ترک ، ملا (جو سادات اور پیران طریقت میں سے نہیں لیکن معزز لقب سمجھ کر اختیار کرتے تھے ؛ جیسے : میاں چراغ محمد صاحب وغیرہ) ۔
۱۲۔ (لکھنؤ) ماہر فن موسیقی ، پکا گوّیا ، کلانوت ، مراثی ، ڈوم
۱۳۔ بعض علاقوں میں بچے باپ کو بھی کہتے ہیں ۔
۱۴۔ (طنزاً) صاحب ، جناب (خطاب کا کلمہ)
۱۵۔ (i) (تعظیماً) بزرگ ہستی ؛ پیرانِ طریقت اور پیرزادوں کے نام سے پہلے ۔
(ii) (مجازاً) مرشد ، پیر ۔
(iii) عام درویشوں ، فقیروں کے لیے مستعمل ۔
(iv) معمولی گداگروں کے لیے مستعمل ۔
۱۶۔ (تعظیماً) سادات کے نام کے بعد۔
۱۷۔ غیر مسلم (عموماً امرا) اپنے نام سے پہلے معزز گرداننے کے لیے لکھتے تھے ۔
۱۸۔ مراد: اللہ تعالیٰ
مِیاں
۱۔ آقا ، مالک ؛ حاکم ، سردار ، بزرگ ، والی وارث ۔
۲۔ شوہر ، خاوند ، خصم ۔
۳۔(i) کلمہء محبت و شفقت برائے اطفال ، صاحبزادے ، ننھے ، منا ، پیارے ، بیٹا ، جانی ؛ جیسے : میاں آوے دوروں سے گھوڑے باندھوں کھجوروں سے.
(ii) بزرگ اپنے سے کم عمر کو اس لفظ سے خطاب کرتے ہیں
۴۔ صاحب ، جناب کی جگہ ، ایک کلمہ ہے جس سے برابر والوں یا اپنے سے کم مرتبہ شخص کو خطاب کرتے ہیں ۔
۵۔ شاعروں کے تخلص پر تعظیم کے لیے بڑھاتے ہیں ؛ جیسے : میاں ناسخ ، میاں مصحفی ، میاں جراء ت ، میاں عشق ۔
۔ ۶۔ پیارے ، محبوب ، دلبر ، دلربا ، جاناں (عموماً قدیم شعرا معشوق کے لیے استعمال کرتے تھے) ۔
۷۔ استاد ، معلّم ، مدرّس ، پڑھانے والا ، ملا
۸۔ آقا زادہ ، مخدوم زادہ ، امیر زادہ ، شہزادہ ، صاحب عالم ، کنور ۔
۹۔ پہاڑی راجپوت ، راجاؤں کے خاندانی لوگ ، ٹھاکر ، شہزادے ، شاہی خاندان کے لوگ
۱۰۔ (i) (ہندو) لااُبالی مزاج والا مسلمان ، بے پروا مزاج ، مولا دولا (طنزاً) جیسے : ان کے خرچ کا کیا ٹھکانا ہے ، میاں لوگ ہیں
(ii) (ہندو) بیوقوف مسلمان ، مورکھ ، دیوانہ ، باؤلا (طنزاً) جیسے : ایک تو میاں ہی تھے دوجے کھائی بھنگ
۱۱۔ (بقال) عام مسلمان ، ترک ، ملا (جو سادات اور پیران طریقت میں سے نہیں لیکن معزز لقب سمجھ کر اختیار کرتے تھے ؛ جیسے : میاں چراغ محمد صاحب وغیرہ) ۔
۱۲۔ (لکھنؤ) ماہر فن موسیقی ، پکا گوّیا ، کلانوت ، مراثی ، ڈوم
۱۳۔ بعض علاقوں میں بچے باپ کو بھی کہتے ہیں ۔
۱۴۔ (طنزاً) صاحب ، جناب (خطاب کا کلمہ)
۱۵۔ (i) (تعظیماً) بزرگ ہستی ؛ پیرانِ طریقت اور پیرزادوں کے نام سے پہلے ۔
(ii) (مجازاً) مرشد ، پیر ۔
(iii) عام درویشوں ، فقیروں کے لیے مستعمل ۔
(iv) معمولی گداگروں کے لیے مستعمل ۔
۱۶۔ (تعظیماً) سادات کے نام کے بعد۔
۱۷۔ غیر مسلم (عموماً امرا) اپنے نام سے پہلے معزز گرداننے کے لیے لکھتے تھے ۔
۱۸۔ مراد: اللہ تعالیٰ
مِیاں اللہ
فقیروں کا کلمہء خطاب ؛ رک : اللہ میاں ۔
مِیاں آدمی
بھلا مانس ، نیک شخص ، شریف انسان ۔
مِیاں آوےدوروں سے گھوڑے باندھوںکَھجُوروں سے
بچوں کو بہلانے کے بول جو عموما ً اناؤں میں مستعمل تھے ۔
مِیاں آوے دوڑ کے ، دُشمَن کی چھاتی توڑ کے
رک : میاں آوے دوروں سے الخ ۔
مِیاں آوے علی علی پُھول بکھیروں َگلی َگلی
رک : میاں آوے دوروں سے الخ ۔
مِیاں آویںکیوںکَر جانوں/جانیے گھوڑے کی ٹاپ پہچانیے
رک : میاں آوے دوروں سے الخ ۔
مِیاں باہَر پَنج ہَزاری ، بیویَگھر میں قِحط کی ماری
(عور) میاں باہر عیش کررہے ہیں بیوی گھر میں مصیبت جھیل رہی ہے ؛ رک : باہر میاں ہفت ہزاری ، گھر میں بیوی فاقوں ماری جو زیادہ مستعمل ہے
مِیاں بی بی/بیوی راضیکَیا کَرے گا قاضی
جب آپس میں اتفاق ہو تو دوسرا کچھ نہیں کرسکتا ۔
۱
۲
۳
۴
۵
>