جھوٹے تی کام نہ آسی بڑا نکامی ہے
جکوئی جھوٹ کتا بھوت وو حرامی ہے
صر صر نے جو یہ حال اپنا دیکھا کہا موئے حرامیو تم بڑے غضب کے ہو .
(۱۸۸۲، طلسم ہوشرہا ، ۱ : ۲۱۳ )
بڑھیا بیٹے کی صورت سے لرزتی تھی بہت حرامی تھا یہ بیٹا .
(۱۹۶۶، دو ہاتھ ، ۹۰ )
پری رُویاں کے کوچے میں خبرداری سوں جا اے دل
کہ اطرف حرم میں ڈر ہمیشہ ہے حرامی کا
حرامیوں نے اس میدان میں ہمارے بھائی کو شہید کیا .
(۱۸۰۲، باغ و بہار ، ۱۵۷ )
تلنگ کی ولایت چوروں اور حرامیوں کا جنگل ہے .
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۴ : ۷۳۴)
آج رات کو سویرے ہی یہ شور ہوا کہ حرامی (یعنی چور) آگئے ییں.
(۱۹۱۲ ، روزنامچۂ سیاحت ، ۴۵ )
جب پیسے بجنے کی آواز پردے کو آ جائے تو حرامی ہو جاتا ہے .
(۱۹۸۳ ، سفرمینا ، ۲۶۲)