۲. جو رنْگ رُوپ اور شکل و صُورت کے لحاظ سے آنکھوں کو بھلا لگے، خوش نما، حسین و جمیل ؛ خُوبصورت.
گرچہ سب خوب رو ہیں خوب ولے
قتل کرتی ہے میرزا کی ادا
(۱۷۰۷، ولی، ک، ۱۰)
آئینہ بنایا ہے مجھے بحرِ جہاں میں
ہر شکل برابر ہے مجھے زشت ہو یا خوب
(۱۸۷۰، کلیات واسطی، ۵۶:۱)
خوبانِ زمانہ سے بہت خوب بنایا
بنتے ہی خود اپنا اسے محبوب بنایا
(۱۹۱۲، شمیم، ریاض شمیم، ۹:۲)
۳. نفیس، اعلیٰ درجے کا.
سوتا تھا جو یک رات وقت سحر
جو سپنے میں دیکھا کہ یک خوب گھر
(۱۵۶۴، پرت نامہ (اردو ادب، جون، ۱۰۰:۱۹۵۷)).
آئینہ قدِّ آدم اور شفّاف
رکھدیں ہر در میں لا کے خوب اور صاف
(۱۷۹۵، حسرت، طوطی نامہ، ۵۲)
ان نے کہا میرے شہر میں ایک ذات کا انگور ہے کہ اس کو خابہ غلاماں کہتے ہیں اور تمہارے ریش بابا سے خوب ہے.
(۱۸۰۲، تقلیات، ۵۹)
۴. نیک اعمال یا اخلاق کے اعتبار سے).
خوب لوگاں کو خدا ہور خدا کے خلیفہ کی آس.
(۱۶۳۵، سب رس، ۴۴)
کہتے ہیں آج ذوق جہاں سے گزر گیا
کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے
(۱۸۵۴، ذوق، د، ۲۵۰)
۵. وہ فعل جس کا نتیجہ اچھا ہو، مفید، سود مند.
اشکِ گرم و آہِ سرد عاشق کے سیں پرہیز کر
خوب ہے پرہیز جب ہو مختلف آب و ہوا
(۱۷۱۸، دیوان آبرو، ۱)
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بُھلایا نہ جائے گا
(۱۸۱۰، میر، ک، ۱۲۵)
۶. موزوں، مناسب، زیبا.
شرع میں اللہ کوں دیکھنا خوب ہے.
(۱۴۲۱، بندہ نواز، معراج العاشقین، ۳۰)
عورت ساگ سبزی بسوار کوں خوب ہے.
(۱۶۳۵، سب رس، ۲۵۸)
بلبلِ گلشن غزل خواں ہے فراقِ گل ستی
یاالٰہی گر ملیں یہ طالب و مطلوب خوب
(۱۷۳۹، کلیات سراج، ۲۱۰)
بس آقا کو کچھ ضرور نہیں ہے کہ استفسار غلام سے کریں جس طرح سے رائے عالی میں آئے وہی خوب ہے.
(۱۸۹۱، بوستان خیال، ۶۶:۹)
چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئین تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ بقیں
(۱۹۳۶، ارمغان حجاز، ۲۲۶)
۷. جو حسب دلخواہ ہو، پسندیدہ، خوشگوار.
یو پانی ہوے تو حیات خوب یو پانی ہو تو سب بات خوب.
(۱۶۳۵، سب رس، ۴۸)
حضرت نے فرمایا یہ تو بشارتیں خوب ہیں و لیکن اس سے بہتر بشارت دے.
(۱۷۳۲، کربل کتھا، ۶۸)
اندازِ سخن خوب چلن خوب ادا خوب
جو بات تمھاری ہے وہ ہے نامِ خدا خوب
(۱۸۷۰، کلیات واسطی، ۵۶:۱)
۸. عجیب و غریب، حیرت انگیز.
قائم رہنے کشتی سے پانی کے اوپر اور نہ ڈوبنا اس کا کہ خاصیت خوب ہے.
(۱۸۵۱، عجائب القصص (ترجمہ) ، ۲۰۷:۲)
شرع والوں نے باتیں تو واللہ خوب نکالی ہیں سب کی سب حکمت پر مبنی ہیں.
(۱۸۸۰، فسانۂ آزاد، ۲۰۵:۱)
۹. قابل تعریف، لائق تحسین.
سن یو بارا کھن کہیں اہل سخں پا کر اُمَس
یو عبارت خوب ہور مضمون ہے سارا سرس
(۱۶۷۲، شاہی، ک، ۱۶۹)
۱۰. شفایاب، صحتمند.
ہوا جب مرضِ سخت ایوب کوں
شفا دے کیا پل میں اس خوب توں
(۱۶۴۵، قصّہ بے نظیر، ۲)
فکر مرہم کا مرے واسطے مت کر ناصح
خوب ہوتا نہیں اس عشق کا ناسور کبھو
(۱۷۵۵، یقین، د، ۴۲)
اف: کرنا، ہونا.
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .