شرائط بجا آن کر جب خطیب
خوش الحاں کھو لیا ہے خطبے کوں جیب
اس وقت خطیب میرے داد کی امت کے منبروں پر خطبے پڑھتے اور نعت میرے داد کی کہتے
( ۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۰۷ )
پھوٹی مسجد ، خطیب تھا نہ اذاں
یہی خانہ خطیب کا تھا واں
جمعہ میں وہ خود خطیب اور امام ہوتے تھے .
( ۱۹۰۲ ، علم الکلام ، ۱ : ۵۵ )
نزاع جس معاملے میں ہوا وہ یہ ہے کہ مسجد اہل حدیث کا امام اور خطیب کیسا ہونا چاہیے
( ۱۹۵۴ ، افادات آزاد ، ۶۲ )
خطیب منبر پر جا زبان ناپاک اپنی یزید و معاقی ہو ابو سفیان علیہم اللعنۃ والنیران کی تعریف میں کھولا
( ۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۷۰ )
بہت بڑا در بار ہے جس میں باہر کے تمام والیان ممالک ، علما ، فقہا ، خطیب ... طلب کئے گئے.
( ۱۸۹۶ ، فلورا فلورنڈا ، ۱۴۷ )
عطارد بن حاجب جو مشہور خطیب تھا ... اٹھا اور اپنی قوم کے مفاجر پر ایک پر زور تقریر کی
( ۱۹۱۴ ، سیرۃ النبی ، ۲ : ۳۶ )
ان کی تعریف کرتے ہوئے یہ جملے لکھے ہیں ... ایک نکتہ رس ، مقن ، ایک سحر بیاں خطیب
( ۱۹۸۳ ، برش قلم ، ۷۶ )
انہیں کہلا بھیجیں کہ اپنے وکیلوں اور خطیبوں کو ہمارے یہاں روانہ کریں.
( ۱۸۱۰ ، اخوان الصفا ، ۵۱ )
میں انکا خطیب یعنی ان کی طرف سے بولنے والا اور معذرت کرنے والا جناب الٰہی یعنی ہونگا.
( ۱۸۶۵ ، مذاق العارفین ، ۴ : ۶۸۱ )
جدا کرکے کلسہ سوں پڑنا ہے طیب
کہ بیٹھی دو خطیباں کے میانے خطب
وہ سر کہ بعد قتل کے قرآں کا ہو خطیب
وہ سرکہ باغِ وحی خدا کا ہو عندلیب