اگر آپ زبردستی کرتے میں دریا میں ڈوب مرتی.
(۱۸۹۰ ، فسانۂ دلفریب ، ۵۶).
ماں کی زبردستیوں سے راجہ شادی پر راضی ہوئے.
(۱۹۳۵ ، اودھ پنچ ، لکھنؤ ، ۲۰ ، ۹ : ۵).
اس طرح نہ ہاتھ آئے گی لیلائے نجات
اے جرأتِ رندانہ زبردستی کر
سدا انسان کو قُدرت دِیا او
زبردستی نہیں کس پر کِیا او
تاجدار نے جو یہ معرکہ دُور سے دیکھا پُکار کر آواز دی ، او بادشاہ یہ کیا زبردستی ہے.
(۱۹۰۱ ، طلسمِ نوخیزِ جمشیدی ، ۳ : ۹۶۰).
بیگار یا زبردستی کی غُلامی کا کوئی سوال ہی نہ تھا.
(۱۹۸۵ ، طوبیٰ ، ۶۸).
نہ کر زیر دستاں کا دِل پر غُبار
تُو ڈر از زبردستیٔ روزگار
وہ لڑکا پیدا ہوگا ... گردن کشان دہر کو زبردستی سے زیر کرے گا.
(۱۸۴۶ ، سرورِ سلطانی ، ۴۵).