( تاریخی ا ُصول پر )


سَلام (فت س) امذ  

۱۔ تسلیم ، بندگی ، آداب، کورنش۔
۲۔ رخصت ، خدا حافظ کی جگہ ۔
۳۔ معاف رکھیے اور باز آیا کی جگہ ، نا اُمیدی اور مایوسی کے موقع پر بھی مستعمل ۔
۴۔ نماز کا سلام جو نماز ختم کرنے کے لئے تشہد اور درود وغیرہ کے بعد پڑھا جاتا ہے ، نماز ختم کرتے وقت پہلے دائیں پھر بائیں طرف مُن٘ھ پھیرتے ہیں اور ہر بار السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ کہتے ہیں ۔
۵۔ مسلمانوں کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں یا آپ کے روضۂ مبارک کی طرف رخ کرکے السلام علیک الخ پڑھنا ، درود محمدیؐ ۔
۶۔ خدا کی طرف سے سلامتی کا نزول .
۷۔ سلامتی ، امن و امان .
۸۔ خدائے تعالیٰ کا وصفی نام .
۹۔ ایک قسم کی رثائیہ اور مدیحہ نظم جو غزل کی ہئیت میں ہوتی ہے اور جس میں عموماً معرکۂ کربلا کا ذکر ہوتا ہے.
۱۰۔ (i) مرحبا ، اأریں ، کلمۂ تحسین .
(ii) دعا.
( نور اللغات ) .
۱۱۔ ( تصوف ) راضی برضاے الہی ہونے کو کہتے ہیں .
( ماخوذ : مصباح التعرف ، ۱۴۷ ) .
۱۲۔ بے گزند ، بے ضرر ، بے ازار .
۱۳۔ قائل کرنے یا داد طلب کرنے کے موقع پر مُستعمل ، مراد ہماری بات یا دعویٰ سچ نِکلا .
۱۴۔ ( کُشتی ) اکھاڑوں میں کُشتی پٹے یا تلوار وغیرہ کے کرتب دکھانے سے قبل اُستاد کی عظمت اور اجازت لینے کے لیے شاگرد کا سلام .
۱۵۔ ( ہئیت ) سال کی ایک اِکائی ، ہزار سال کا عرصہ .