جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے باپ ہیں سلام کیجیے ۔
( ۱۸۸۷ ، خیابان آفرینش ، ۳۹ )
کیسا ملنا جلنا کہاں کا سلام آداب ساس منہ تکتی رہیں اور وہ میکے چلتی ہوئی۔
( ۱۹۱۵ ، گرداب حیات ، ۳۹ )
آپ جہاں جارہے ہیں انکو ہمارا سلام کہیے گا ۔
( ۱۹۸۷ ، گردشِ رنگ چمن ، ۵۵۳ )
۲۔ رخصت ، خدا حافظ کی جگہ ۔
ارے عشق رخصت اے ہوس و آرزو سلام
اپنا مقام آج سے دارالبقا ہوا
( ۱۸۷۸ ، گلزار داغ ، ۲۴ ) .
سراب دہر کو میرا سلام اے ابرار
جہانِ بے سر و ساماں میں جی نہیں لگتا
( ۱۹۵۱ ، صد رنگ ، ۵۸ ) .
۳۔ معاف رکھیے اور باز آیا کی جگہ ، نا اُمیدی اور مایوسی کے موقع پر بھی مستعمل ۔
دربار ہو یا نہ ہو غرض کیا
اپنا تو سلام ہوچکا اب
( ۱۸۲۴ ، مصحفی ، د ( انتخاب رامپور ) ، ۶۹ ) .
بظاہر مہربانی ہے تو دل میں بدگمانی ہے
سلام ایسی عنایت کو عنایت اپنی رہنے دو
( ۱۸۹۲ ، مہتابِ داغ ، ۱۴۸ )
بس سلام آپ کو ہم آج سے اے بندہ نواز
خوب پہچان گئے جان گئے مان گئے
(۱۹۱۱ ، ظہیر ، د ، ۲ : ۱۵۳ )
۴۔ نماز کا سلام جو نماز ختم کرنے کے لئے تشہد اور درود وغیرہ کے بعد پڑھا جاتا ہے ، نماز ختم کرتے وقت پہلے دائیں پھر بائیں طرف مُن٘ھ پھیرتے ہیں اور ہر بار السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ کہتے ہیں ۔
ہے اُسی بُت کے طاقِ ابرو کو
جو سجود و سلام ہے میرا
(۱۷۸۸ ، جہاں دار ، د ، ۶۵ ) .
نہ موڑنا بُتاںِ حسیں سے حرام ہے
موقوف یہ نماز نہیں ہے سلام پر
(۱۸۵۴ ، غنچۂ آرزو ، ۵۹ ) .
دوسری حدیث میں یہ دعا بعد فراغتِ سلام آئی ہے .
( ۱۸۷۳ ، مطلع العجائب ( ترجمہ) ، ۸۵ ) .
وہ ظہر کی نماز پڑھ رہی تھیں کچھ دیر تک کھڑا بڑبڑاتا رہا جب وہ سلام پھیر چکیں تو دل کھول کر بھڑاس نِکالی .
(۱۹۱۵ ، گردابِ حیات ، ۳۹ ) .
۵۔ مسلمانوں کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں یا آپ کے روضۂ مبارک کی طرف رخ کرکے السلام علیک الخ پڑھنا ، درود محمدیؐ ۔
بُوجھے جنہیں رسول تمام
تب ہووج پورا سلام
(۱۵۷۸ ، خوب ترنگ ( ادب و لسانیات ، ۲۶ ) ) .
قبر کی کہی جو سُنی تھی تمام
محمد نبی پر درود اور سلام
( ۱۷۶۹ ، آخر گشت ، ۳۲ ) .
بھیجتا ہے جو سلام آپ اس کو دیتے ہیں جواب
اور جو پڑھتا ہے درود اس کو تو بے حد ہے ثواب
( ۱۸۷۲ ، محاہد خاتم النبینؐ ، ۱۵۷ ) .
اُس کے کرم نے کھینچ لیا جالیوں کے پاس
ڈرتا تھا میں سلام پڑھا میں نے دور سے
( ۱۹۱۹ ، درشہوار ، بیخود ، ۸۷ )
۶۔ خدا کی طرف سے سلامتی کا نزول .
کہا تُج خدا نے کیا ہے سلام
بُلایا تجے آج انے مقام
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۱۰ )
تحیت نبی کی رخن تی ہوا
سلام ہور شرف حق کرن تی ہوا
( ۱۶۵۷ ، گلشن عشق ، ۱۶ )
۷۔ سلامتی ، امن و امان .
دنیائے حوادث میں سلام اور سکوں کیا
اک حال پہ رہتی نہیں قائم کبھی دنیا
( ۱۹۴۷ ، شعر انقلاب ، ۱۵۶ )
ہیں آنسو شفائے دل مبُتلا
رسول سلام و سفیر سکوں
( ۱۹۶۹ ، مزمور میر مفتی ، ۶ )
۸۔ خدائے تعالیٰ کا وصفی نام .
قومی و متین و بدیع و کریم
سلام و عزیز و صیور و حلیم
(۱۵۶۴ ، حسن شوقی ، د ، ۹۵ )
نہیں ہے ملک ہور تو نہیں سلام
نہیں ہے مہیمن تو نہیں نیک نام
( ۱۶۹۰ ، قطب مشتری ، ۱ )
یا قوی یا سلام یا قدُّوس
یا ولی یا قدیر یا حافظ
( ۱۸۶۶ ، گلدستۂ امانت ، ۵۳ )
تو سلام و خالق و متعال و عدل و کریم تو
عزیز و باری و غفار و فتاح و علیم
(۱۹۸۴ ، الحمد ، ۸۴ )
۹۔ ایک قسم کی رثائیہ اور مدیحہ نظم جو غزل کی ہئیت میں ہوتی ہے اور جس میں عموماً معرکۂ کربلا کا ذکر ہوتا ہے.
جس کو دیکھا تو ایک کام میں ہے
کوئی مُجرے کوئی سلام میں ہے
(۱۷۹۱ ، حسرت لکھنوی ، طوطی نامہ ، ۱۰۳)
نوحہ سلام کہنے کا ورد تھا ، دلگیر کا شاگرد تھا.
( ۱۸۵۳ ، شرحِ اندرسبھا ،۸۲ )
اگر یہ قصیدہ کے طور پر ہوتا ہے تو اس کو مُجرا اور سلام کہتے ہیں.
( ۱۸۶۳ ، انشاے بہار بے خزاں ، ۱۷ )
مدح علی میں ہے یہ بلندی کلام کی
عرش بریں زمیں ہے ہمارے سلام کی
( ۱۸۷۵ ، دبیر ، دفتر ماتم ، ۱۸ : ۲۶ )
حسبِ فرمائش دوچار سلام موزوں کیے تھے وہ یاد نہیں.
( ۱۸۸۸ ، مکاتیب امیر مینائی ، ۱۵۷ ) .
۱۰۔ (i) مرحبا ، اأریں ، کلمۂ تحسین .
سلام خانۂ زہرا ترے چراغوں پر
بُجھے ہیں شمع رسالت کی روشنی کے لیے
( ۱۹۷۹ ، دریا آخر دریا ہے ، ۴۰۱ )
(ii) دعا.
( نور اللغات ) .
۱۱۔ ( تصوف ) راضی برضاے الہی ہونے کو کہتے ہیں .
( ماخوذ : مصباح التعرف ، ۱۴۷ ) .
۱۲۔ بے گزند ، بے ضرر ، بے ازار .
منجملہ امور غریبہ کے معجزے پیغمبروں کے ہیں جیسے شق ہوجانا قمر کا ... سرد اور سلام ہوجانا آگ کا .
(۱۸۷۷ ، عجائب المخلوقات ( ترجمہ ) ، ۱۳ ) .
۱۳۔ قائل کرنے یا داد طلب کرنے کے موقع پر مُستعمل ، مراد ہماری بات یا دعویٰ سچ نِکلا .
بندگی کام آ رہی آخر
میں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا
( ۱۸۵۱ ، مومن ، ک ، ۲۵ ) .
۱۴۔ ( کُشتی ) اکھاڑوں میں کُشتی پٹے یا تلوار وغیرہ کے کرتب دکھانے سے قبل اُستاد کی عظمت اور اجازت لینے کے لیے شاگرد کا سلام .
سلام لیتا ہے اس ٹھاٹ سے وہ قاتلِ خلق
پٹے کا بان٘ک کا جب جب سلام ہوتا ہے
(۱۸۶۷ ، رشک ( نور اللغات ) .
۱۵۔ ( ہئیت ) سال کی ایک اِکائی ، ہزار سال کا عرصہ .
وہ ہزار سال کو سلام اور سو سلام کو اشمار ..
کہتے ہیں
( ۱۸۹۱ ، بوستانِ خیال ، ۸ : ۶۹۱ ) .
اف : کرنا ، کہنا .
-
[ ع ( س ل م ) ] .
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .