اپس تھے کہی کہتی نیں داستاں
خبر دھرتی ہوں میں بی از داستاں
گُل نے بھی پیرہن کو چاک کِیا
سُنتے ہی داستان بُلبل کا
داسان کے چار فن ہیں رزم ، بزم ، حسن و عشق ، اور عیَاری.
(۱۸۸۷، جانِ عالم ، ۴۹).
اصحابِ صفہ میں حضرتِ ابوہریرہ اپنے فقر و فاقہ کی داستان نہایت درد انگیز طریقے سے بیان کرتے ہیں.
(۱۹۱۴، سیرۃ النبی ، ۲ : ۳۱۳).
اس کاوش کی داستان کو تاریخ کہتے ہیں جس کا بیشتر حصہ ... جبلتوں میں کھو گیا.
(۱۹۸۴، گردِ راہ، ۱۰).
بہوت باتاں کیتا ازیں داستاں
جو آخر ہوا گفتۂ راستاں
میں قصَہ گو نہیں کہ کہے جاؤں داستاں
دل سے جو تو سُنے تو کُچھ اے دِلربا کہوں
بھاوج غریب نے تو آمدر سخن ایک بات کہہ دی تھی اس کو کیا خبر کہ نند ایک داستان شروع کر دے گی.
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۳۳).
اس نے محسوسات کی داستان سُنائی اور وہ شوق سے سُنتا رہا.
(۱۹۷۳ ، آوازِ دوست ، ۲۴۴).
کھیا (کہیا) سارے خاور کی میں داستاں
سُنیا تھا جکچ میں بی از راستاں
میری بدنامی پہ گُزریں مدتیں حیرت ہے یہ
یاد لوگوں کو مرا وہ داستاں کیوں کر رہا
ہے تجھ کو یاد ازبر وہ داستان ساری
لہریں تری ورق ہیں تاریخ کے ہماری
(۱۹۲۹، مطلع انوار ، ۲۹).
یہ داستان صرف میری داستان نہیں بلکہ ان بیبیوں ، علمأ، حکمأ اور مُفکَرین کی داستان ہے جنھوں نے ... درس دے کر اسے مزید چمک بخشی.
(۱۹۸۲، میری داستانِ حیات ، ۳).