عرب کا کام سب اونٹ سے ہے اور ہند کا بیل سے اور ایران کا خچر سے.
(۱۸۴۵ ، احوال الانبیا ، ا : ۲۵۰)
آج وہ بمبئی کو چلا گیا ۴۹۰ خچریں راستے میں مرگئیں . . . کام کے قابل نہیں رہ گئیں.
(۱۸۹۳ ، بست سالہ عہد حکومت ، ۶۴۲)
خچر میں گھوڑے کی طاقت اور گدھے کا صبر و تحمل موجود ہے.
(۱۹۳۸ ، آئین اکبری (ترجمہ) ، ۱ : ۱ ، ۲۸۷)
معتصم نے . . . اسلحہ ، خچر ، چرمی خیمے . . . اور جملہ فوجی سامان . . . کثرت سے فراہم کیا.
(۱۹۷۵ ، تاریخ اسلام ، ۳ : ۱۲۴)
پنڈت جی دیکھو اس عہد نامۂ شوم میں کیا مرقوم ہے اور یہ کس خچر نے لکھا ہے.
(۱۸۹۱ ، بوستان خیال ، ۸ : ۲۷۷)
یونیورسٹی کی تعلیم ہم کو صرف خچر بناتی ہے.
(۱۹۰۱ ، حیات جاوید ، ۲۸۹)