ہات سیں رِسالے لیے ہیں ، غرض پیٹ بھرنے جاگا کیے ہیں.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۳۱)
رِسالہ یو دکھنی امولک تمام
درود بر محمد علیہ السلام
کی سیر محبت کے رِسالے کی جو میں نے
سُرخی کی جگہ خُون ہر اک باب میں رویا
ایک بُزرگ نے اپنے رِسالے میں لِکّھا ہے.
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۱۸۱)
دِین کا کوئی رَسالہ بھی مجھ کو دیکھنے کا اِتّفاق نہیں ہوا.
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۱۲۹)
اسباب بغاوتِ ہند پر ایک رِسالہ لِکھا.
(۱۹۳۸ ، حالاتِ سرسیّد ، ۲۲)
ایسا پرچہ یا رِسالہ نِکلے جو جلد جلد ایک مناسب میعاد پر چھپا کرے.
(۱۸۷۶ ، تہذیب الاخلاق ، ۲ : ۴۸۶)
ایک سیّاح نے ایک ہفتہ وار رِسالے میں یہ واقعات شائع کِیے ہیں.
(۱۹۱۳ ، مضامین ابوالکام آزاد ، ۳۶)
گویا ادب نہ ہوا ان کا رسالہ ’’نیا زمالہ‘‘ ہو گیا.
(۱۹۸۷ ، اک محشرِ خیال ، ۲۴)
یوں بھی مِلا کچھ تو ہر اک پالکی آگے
اس سج سے رِسالہ کا رِسالہ ہی رواں ہے
یہہ سُن کر خاص رِسالے میں سے ایک سوار نِکلا.
(۱۸۴۵ ، نغمۂ عندلیب ، ۱۰۳)
ہمارے والد صاحب کا رسالہ لکھنؤ سے تبدیل ہو کر نصیرآباد کی چھاؤنی میں پہنچا.
(۱۸۸۴ ، تذکرۂ غوثیہ ، ۳۳)
قریش بڑے سر و سامان سے نکلے تھے ، ہزار آدمی کی جمعیت تھی سو سواروں کا رِسالہ تھا.
(۱۹۱۱ ، سیرۃالنبیؐ ، ۱ : ۲۹۴)
بارہ ہزار اسپی رِسالے بھی ساتھ ہی
چلتا ہوں اب جہاز پہ میں ، میری جل پری