عشق ناگر کیا زمیں دل کا
سٹوں انجھو کہ ہوئے شجر دُربار
دوجگ کر ہوئیں کاغذ ہوئیں دریا مداد
قلم سب شجر ہوویں تو بھی زیاد
گھٹ کے یوں خواہشِ دل شام و سحر بڑھتی ہے
جس طرح ہو کے قلم شاخِ شجر بڑھتی ہے
ہے نقش بدیوار ملک ہے کہ بشر ہے
آئینۂ حیرت ہے شجر ہے کہ حجر ہے
تیز سورج میں چلے آتے ہیں میری جانب
دوستوں نے مجھے صحرا کا شجر جانا ہے