بھی عمر اُمیّہ کھیا یوں بدو
کہ اے سگ توں مجھ تھے خلاصی مجو
ولی تجھ کوں رکھیں گے شیر مرداں اپنی مجلس میں
رہے گر سگ ہو کر دائم نبؐی کے آستانے کا
یوں آدمی کہلاوے یوں ہر گربھ و سگ لیکن
جس سے کہ عبارت ہے انسان وہ عنقا ہے
بے صیدِ ذبح کردہ وہ کھاتا نہیں ہے گوشت
لپکا ہے اس کے سگ کو بھی رزقِ حلال کا
منھ کھولے ہوئے شیر ، پہ حملے کو سگ آیا
پر دب کے الگ زد سے گیا اور الگ آیا
مبروص کے داغوں سے عفونت میں سِوا ہے
ذِلّت کا یہ لقمہ ہے سگوں کی یہ غذا ہے