سِیتاجی کھیت جوتنے کی دیوی سمجھا جاتا ہے ، سِیتا کے معنی ہیں اُس لکیر جو زمین پر ہل چلانے سے پیدا ہو جاتی ہے .
(۱۹۱۶ ، گہوارۂ تمدن ، ۲۱۵)
رام پھل کو کر دیا ارسال رام
خلق میں باقی رہے سِیتا کا نام
آ رہی ہر آگ گنگا کی طرف بڑھتی ہوئی
آج راون کا محل سِیتا کا زِنداں ہے تو کیا
سِیتا دھرتی دیوی تھی جو جنگ کے ہل چلاتے ہیں وقت سے پیدا ہوتی تھی .
(۱۹۷۳ ، عام فکری مغالطے ، ۱۷۴)
دوا ہے رم نئیں ہے آہو نین جب سے (کذا)
مری وحشت کے زخمِ دل کو سِتیا ہو کے سِیتا ہے