اب جے دنیا ہم عقبے اوپر آ ہے چاؤ تجھے
( ۱۵۰۳، نوسرہار ، ۷ )
دو دن اس دنیا میں توں اچ اصول کہ تج تے خدا خوش اچھے ہور رسول
( ۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۶ )
اپنی دنیا اور آخرت سے خبردار ہوں .
( ۱۸۷۶ ، مجالس النساء ، ۱ : ۸ )
مری دنیا کا سرمایہ ہے عقبیٰ بڑی تنخواہ کا مزدور ہوں میں
( ۱۹۷۳ ، چیونٹی نامہ ، ۱۹۳ )
تُجھے سُک آنند دائیم اچھو ترا راج دنیا میں قائیم اچھو
( ۱۶۰۹، قطب مشتری ، ۹۸ )
دُنیا میں دو ملک ایسے ہیں جہاں اس آلے کا . . . استعمال ہوتا ہے
( ۱۹۶۹ ، کمپیوٹر کی کہانی ، ۲۸ )
دُنیا جھوٹ ہے جیونا جھونٹ جان نہ کر جیو گدلا نہ نیز انکھ اس آن
( ۱۴۳۵ ، کدم راؤ پدم راؤ ، ۸۹ )
بھلاتی ہے دنیا بہوت ساز سوں نکو جیولا اس دغاباز سوں
( ۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۶ )
ستم یہ کہ دنیا میں بالکل اکیلا ہے ، قریب دور کے کسی عزیز کا پتہ نہیں
( ۱۹۸۶ ، آئینہ ، ۴۲ )
صالحہ کے عقیقے میں دنیا میں آئی مگر نہ آئیں تو تم
( ۱۹۱۰ ، لڑکیوں کی انشاء ، ۲۴ )
دُنیا نے کسی کا راؤ فنا دیا ہے ساتھ تم ہی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
( ۱۸۵۴ ، ذوق ، د ، ۲۲۰ )
خدا کا خوف نہ دنیا کا ڈر ، ماں کا لحاظ نہ باپ کا وقر .
( ۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۱۳ )
دنیا نے بنوہاشم کا بائیکاٹ کر رکھا تھا .
( ۱۹۸۵ ، روشنی ، ۱۶۰ )
انہوں نے . . . دیوتاؤں اور بھوتوں کی ایک دنیا کھڑی کر دی .
( ۱۹۳۴ ، ویدک ہند ، ۲۲۹ )
قدیم تہذیب و تمدن کی ساری دنیا تھی جو اسلام سے دب رہی تھی .
( ۱۹۶۷ ، اردو دائرہ ، معارف اسلامیہ ، ۳ : ۱۸۵ )
ہم بحیثیت انسان بہ یک وقت دو دنیاؤں میں سانس لیتے ہیں .
( ۱۹۲۹ ، نذیر احمد اور اردو ناول نگاری ، ۷۵ )
پھر سمجھ یہ تو کہ دنیا کچھ نہیں گرچہ ہے سب کچھ پر اپنا کچھ نہیں
( ۱۷۷۴، مثنویات حسن ، ۱ : ۶۸ )
دنیا مثال فاحشہ جاتی ہے جس کے پاس رہتی ہے اس کے پاس یہ بدذات چند روز
( ۱۸۶۳ ، کلیات ظفر ، ۳ : ۴۲ )
گرچہ دنیائے صحافت سے طبیعت سیر تھی دل تھا مضطر اک نئی دنیا بسانے کے لیئے
( ۱۹۴۶ ، اخترستان ، ۳۴ )
ہماری انسانی دنیا کی طرح چیونٹی کی دنیا میں بھی سب کاروبار بطریق راسخ نہیں ہوتے .
( ۱۹۷۳، چیونٹی نامہ ،۶۱ )
جنت والے حصہ . . . میں دو دو دانے ہیں اور دنیا والے حصے میں پانچ دانے ہر تار میں پروئے گئے ہیں .
( ۱۹۶۹ ، کمپیوٹر کی کہانی ، ۲۸ )
[ ع : ( د ن و ) ]
