(iii) لگام ، زِین ، کاٹھی وغیرہ (گھوڑے پر لگانے یا سجانے کا سامان).
گھوڑا تازی نژاد اپنا با ساز قیمتی بھیجا.
( ۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۱۴۶ )
گھوڑوں کے ساز میں یاقوت و زمرد جڑے.
( ۱۸۹۰ ، فسانۂ دلغریب ، ۵۶ )
(iv) کوتل کھوڑے کا پہناوا زیور وغیرہ .
یہ سب ساز ہیروں کا ہے .
( ۱۷۴۶ ؟ قِصہ مہر افروز و دلبر ، ۱۹۳ )
ایک اسپ کوتل ، ... باساز ہو .
( ۱۸۹۷ ، تاریخِ ہندوستان ، ۳ : ۳۸۳ )
۳. ربط و ضبط ، خلا ملا ، موافقت ، یکسانیت ، ہم آہنگی.
گھر ہے آباد دراندازوں سے
ساز ہے تم کو سخن سازوں سے
( ۱۸۶۸ ، شعلۂ جوالہ ، واسوخت صفیر ، ۲ : ۶۳۹ )
آنکھیں ہیں فرشِ راہ اگر دل میں ساز ہے
آجاؤ شوق سے کہ درِ صلح باز ہے
( ۱۸۹۹ ، دیوانِ ظہیر ، ۱ : ۱۷۸ )
۴. سازش ، گٹھ جوڑ ، مِلی بھگت (عموماً باز کے ساتھ ).
بہلاتی ہے دُنیا بہوت ساز سوں
نکو جیولا اس دغا باز سوں
( ۱۶۰۹ ، قُطب مشتری ، ۶ )
فلاں ... شخص تمہارے دشمن سے ساز رکھتا ہے.
( ۱۸۶۴ ، مذاق العارفین ، ۳ : ۱۷۰)
ترا اِشارہ ترا ساز برق سے نہ سہی
تُجھے خبر ہے کہ جلتا ہے آشیاں صیّاد
( ۱۹۴۱ ، فانی ، ک ، ۹۰ )
تھا سنگِ سرراہ سے کُچھ ساز نظر کا
لغزش کوئی یونہی نہیں آئی بھی قدم میں
( ۱۹۸۰ ، حرفِ دل رس ، ۱۳۷ )ٖ
۵. صدری کے اُوپر کا فیتہ اور گھنڈیاں وغیرہ.
اکثروں میں صدری کا ساز لگا ہوا ہے .
( ۱۸۹۸ ، سرسیّد ، تہذیب الاخلاق ، ۴ : ۱۱۰ )
۶. (تصوف) ذات کو پالینا
( ماخوذ : مصباح التعرف ، ۱۴۰)
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .