( تاریخی ا ُصول پر )


ساز () امذ  

۱. سامان ، اسباب ، اثاثہ.
۲. (i) سامانِ طرب ، آلات رقص و سرود (سارنگی ، طبلہ ، ڈھولک وغیرہ)
(ii) سامانِ حرب و ضرب ، اسلحہ (تیغ و تفنگ وغیرہ).
(iii) لگام ، زِین ، کاٹھی وغیرہ (گھوڑے پر لگانے یا سجانے کا سامان).
(iv) کوتل کھوڑے کا پہناوا زیور وغیرہ .
۳. ربط و ضبط ، خلا ملا ، موافقت ، یکسانیت ، ہم آہنگی.
۴. سازش ، گٹھ جوڑ ، مِلی بھگت (عموماً باز کے ساتھ ).
۵. صدری کے اُوپر کا فیتہ اور گھنڈیاں وغیرہ.
۶. (تصوف) ذات کو پالینا
( ماخوذ : مصباح التعرف ، ۱۴۰)