اللہ کا دیدار سو مومنان کی نماز ... دوزخ اللہ کوں دیکھتے رہنا، سو روزہ اس کے دیک میں آپس کوں بسرنا.
(۱۴۲۱، بندہ نواز، معراج العاشقین، ۳۲).
اگر میں باغ میں جاؤں تو بلبل در چمن لرزے
مرے دل کی اگن دیکھے تو دوزخ کی اگن لرزے
مگر کھینچ دوزخ کے دریا تے نیز
برستا اتھا جگ پہ چلتاچ تھیر
اے رشکِ باغ جنت جب سوں جدا ہوا توں
دوزخ ہے مجکوں تب سوں گلزار کا تماشا
ہم نفس باغِ جَناں گھر ہے گنہگاروں کا
ڈھونڈ دوزخ میں کہیں جا کے مکانِ واعظ
بہتوں کو اب بھی یقین ہے کہ دوزخ اور اعراف اور بہشت کے دروازوں کے کھولنے کا پوپ کو بالکل اختیار ہے.
(۱۸۹۹، حیاتِ جاوید، ۲ : ۱۶۸).
استادِ ازل نے عقل دے کر یہ کہا
لوح و قلم و بہشت و دوزخ تیرا
جنت میں بھی اکل و شرب سے کب ہے نجات
دوزخ کا بہشت میں بھی ہوگا دھندا
اس نے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ سب اس دوزخ کے واسط ہے.
(۱۸۸۴، قصص ہند، ۲ : ۹۲).
اشعار لاجنس، عشق کی جنت اور جنس کے دوزخ دونوں ... سے عاری ہوتےہیں.
(۱۹۸۳، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ۱۷۵).